• عزیزاللہ خان
  • بی بی سی اردو ڈاٹ کام ، پشاور

شمالی وزیرستان میں تین ماہ سے فوجی آپریشن ضرب عضب جاری ہے جس میں سکیورٹی فورسز کے مطابق اب تک شدت پسندوں کا بھاری جانی نقصان ہو چکا ہے
،تصویر کا کیپشن

شمالی وزیرستان میں تین ماہ سے فوجی آپریشن ضرب عضب جاری ہے جس میں سکیورٹی فورسز کے مطابق اب تک شدت پسندوں کا بھاری جانی نقصان ہو چکا ہے

پاکستان کے فوجی حکام کا کہنا ہے کہ قبائلی علاقے شمالی وزیرستان ایجنسی میں افغانستان کے سرحدی علاقے سے ہونے والے حملے کے بعد شدت پسندوں کے ساتھ جھڑپ میں تین سکیورٹی اہلکار اور 11 شدت پسند ہلاک ہوگئے ہیں۔

حکام کے مطابق ایک شدت پسند کو فورسز نے گرفتار کر لیا ہے۔

فوج کے شعبۂ تعلقات عامہ کے مطابق منگل کو صبح سویرے شدت پسندوں نے سپین وام کے علاقے میں ڈنڈی کچھ کے مقام پر فرنٹیئر کور کی چوکی پر حملہ کیا۔

حکام کے مطابق یہ حملہ افغانستان کے سرحدی علاقے سے کیا گیا تھا۔

بیان میں کہا گیا ہے کہ پاکستانی فورسز نے اس حملے پر بھرپور جوابی کارروائی کی جس میں 11 شدت پسندوں کو ہلاک اور ایک کوگرفتار کر لیا۔

حملہ آور اپنے تین ساتھیوں کی لاشیں موقعے پر چھوڑ کر فرار ہو گئے جنھیں فورسز نے اپنی تحویل میں لے لیا ہے۔

آئی ایس پی آر کے مطابق اس جھڑپ میں فرنٹیئر کور کے تین اہلکار بھی ہلاک ہوئے ہیں۔

،تصویر کا ذریعہAP

،تصویر کا کیپشن

شمالی وزیرستان سے ملنے والی اطلاعات کے مطابق حملہ آوروں نے چوکی پر راکٹوں اور دیگر خود کار ہتھیاروں سے حملہ کیا

شمالی وزیرستان سے ملنے والے اطلاعات کے مطابق حملہ آوروں نے چوکی پر راکٹوں اور دیگر خود کار ہتھیاروں سے حملہ کیا جس سے چوکی کو بھی نقصان پہنچا۔ دونوں جانب سے فائرنگ کا تبادلہ دیر تک جاری رہا۔

بعض اطلاعات کے مطابق گذشتہ روز افغانستان کی سرحد کے اندر سے خیبر ایجنسی کے علاقے لنڈی کوتل میں بھی گولے گرے تھے، تاہم اس سے کوئی جانی نقصان نہیں ہوا۔

دو روز پہلے شمالی وزیرستان میں میر علی کے قریب سپین وام کے ہی علاقے میں سکیورٹی فورسز کے قلعے پر شدت پسندوں نے حملہ کیا تھا جس میں تین اہلکار ہلاک اور دو زخمی ہو گئے تھے۔

اس واقعے کے بعد سکیورٹی فورسز نے علاقے میں جوابی کارروائی شروع کر دی تھی لیکن دوسری جانب سے کسی جانی نقصان کی اطلاع موصول نہیں ہوئی تھی۔

شمالی وزیرستان میں تین ماہ سے فوجی آپریشن ضرب عضب جاری ہے جس میں سکورٹی فورسز کے مطابق اب تک شدت پسندوں کا بھاری جانی نقصان ہو چکا ہے اور اس آپریشن سے ان کے حملوں کی قوت ختم کر دی گئی ہے۔

اس آپریشن کے نتیجے میں اب تک 56 ہزار سے زیادہ خاندان نقل مکانی پر مجبور ہوئے ہیں جو ان دنوں خیبر پختونخوا کے بنوں، کرک، لکی مروت اور پشاور سمیت مختلف علاقوں میں پناہ لیے ہوئے ہیں۔

No comment

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *