اسلام آباد: حکومت نے غیر ملکی اثاثے اور آمدنی رکھنے والے ریذیڈنٹ پاکستانیوں کیلئے 2023 سے انکم ٹیکس گوشواروں کے ساتھ غیر ملکی اثاثہ جات اور آمدنی و اخراجات کی تفصیلات جمع کروانے کو لازمی قراردینے کا نوٹی فکیشن جاری کردیا. 

 

فیڈرل بورڈ آف ریونیو(ایف بی آر) کی جانب سے جاری کردہ نوٹی فکیشن کے ذریعے فیڈرل بورڈ آف ریونیو نے انکم ٹیکس رولز 2022 میں کی جانیوالی ترامیم لاگو کردی ہیں اس سے پہلے ان ترامیم کے مسودے بارے اسٹیک ہولڈرز سے آرا طلب کی گئی تھیں۔ آرا کی معیاد گزرنے کے بعد اب ایف بی آر نے گزٹ نوٹی فکیشن کے زریعے ان ترامیم کو نافذ کردیا ہے جس تحت انکم ٹیکس رولز 2002 میں 36 اے کے نام سے نیا رول شامل کیا گیا ہے۔

جس میں بتایا گیا ہے کہ ہر ٹیکس ایئر کے اختتام پر ریذیڈنٹ انفرادی ٹیکس دہندگان کو ایف بی آرکے متعارف کروائے گئے ڈکلیئریشن فارم کے مطابق غیر ملکی اثاثہ جات اور آمدنی کی تفصیلات پر مبنی اسٹیٹمنٹ جمع کروانا ہونگی اور جو پاکستانی اپنے غیر ملکی اثاثی جات اور آمدنی کی تفصیلات فراہم نہیں کریں گے انکے خلاف انکم ٹیکس آرڈیننس 2001 کی سیکشن182 کی ذیلی شق ایک کی سیریل نمبر ایک ٹرپل اے کے تحت کارروائی کرتے ہوئے جرمانے عائد ہوں گے۔

مذکورہ شق کے مطابق غیر ملکی اثاثہ جات و آمدنی ظاہر نہ کرنے والوں پرچھپائے گئے اثاثہ جات کی مالیئت اور آمدنی کے دو فیصد سالانہ کے حساب سے جرمانے عائد ہونگے اور جتنے سال کے اثاثہ جات و آمدنی ظاہر نہیں کی گئی ہوگی اتنے سال کے حساب سے اثاثہ جات کی ویلیو اور آمدنی کے دو فیصد سالانہ کے برابر جرمانے وعائد ہوں گے۔

مجوزہ رولز میں بتایا گیا ہے کہ س پاکستانیوں کو ٹیکا یئر کے دوران اگر کسی شخص کی جانب سے اثاثہ جات کسی دوسرے شخص کو منتقل کئے گئے ہونگے اسکی تفصیلات بھی فراہم کرنا ہونگی اسی طرح غیر ملکی آمدنی اور اخراجات کی تفصیلات بھی فراہم کرنا ہونگی اور پاکستانیوں کو غیر ملکی اثاثة جات اور واجب الادا واجبات کی تفصیلات بھی دینا ہوں گی۔

No comment

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *