صرف صوبہ پنجاب میں سیلاب سے سوا بائیس لاکھ لوگ متاثر ہوئے ہیں

،تصویر کا ذریعہAFP

،تصویر کا کیپشن

صرف صوبہ پنجاب میں سیلاب سے سوا بائیس لاکھ لوگ متاثر ہوئے ہیں

پاکستان میں قدرتی آفات سے نمٹنے کے وفاقی ادارے این ڈی ایم اے نے کہا ہے کہ دریائے چناب کا سیلابی ریلا جنوبی پنجاب کے ہیڈ پنجند سے گزرنے کے بعد دریائے سندھ کے علاقوں میں داخل ہو گیا ہے اور پنجاب میں اُس کا زور ٹوٹنا شروع ہو گیا ہے۔

محکمۂ موسمیات نے صوبہ سندھ کے گدو بیراج پر سیلاب کے خطرے کی درجہ بندی کم کر دی ہے اور کہا ہے کہ اب وہاں انتہائی اونچے درجے کا نہیں بلکہ درمیانی درجے یا پھر اونچے درجے کے سیلاب کا خدشہ ہے۔

کراچی سے نامہ نگار ریاض سہیل کے مطابق سندھ میں پنجاب سے سیلابی پانی کی آمد کا سلسلہ جاری ہے اور حکام کا کہنا ہے کہ پنجاب میں مختلف مقامات پر دریاؤں کو کٹ لگانے کی وجہ سے پانی کی رفتار اور شدت میں کمی آئی ہے جس وجہ سے گدو کے مقام پر پانی کی آمد میں تاخیر ہوئی ہے۔

گدو کے مقام پر اس وقت تین لاکھ نو ہزار کیوسک پانی کا اخراج ہو رہا ہے، جہاں گذشتہ ہفتے چھ سے سات لاکھ کیوسک پانی کی آمد کا امکان کا ظاہر کیا جا رہا تھا۔

کشمور، کندھ کوٹ اور گھوٹکی کے بعد سیلابی پانی شکارپور، سکھر، لاڑکانہ اور خیرپور اضلاع کے کچے کے علاقے میں داخل ہوگیا ہے، جس کے باعت کئی دیہات کا زمینی رابطہ منقطع ہو چکا ہے۔

صوبائی ڈزاسٹر مینیجمنٹ اتھارٹی کا دعویٰ ہے کہ کشمور، شکارپور، لاڑکانہ، گھوٹکی، سکھر اور خیرپور میں ممکنہ متاثرین کے لیے 122 ریلیف کیمپ قائم کیے گئے ہیں، جہاں 12 ہزار سے زائد افراد موجود ہیں۔

کندھ کوٹ شہر سے باہر ٹوڑھی بند کے قریب بھی دو درجن کے قریب چھوٹے خیمے لگائے گئے ہیں۔

،تصویر کا ذریعہAFP

،تصویر کا کیپشن

ہزار سے زیادہ مکانات کو نقصان پہنچا ہے جبکہ 17 لاکھ ایکڑ پر کھڑی فصلیں تباہ ہوئی ہیں

مقامی تحصیل دار کا کہنا تھا کہ لوگ اپنے رشتے داروں کے گھروں میں جانے کو ترجیج دیتے ہیں لیکن انھوں نے کیمپ لگا کر اپنا فرض پورا کیا ہے۔

این ڈی ایم اے کے مطابق بارشوں اور سیلاب سے پنجاب، پاکستان کے زیرانتظام کشمیر اور گلگت بلتستان میں کُل 317 اموات ہوئی ہیں جبکہ ساڑھے پانچ سو کے قریب لوگ زخمی ہوئے ہیں۔

صرف صوبہ پنجاب میں سیلاب سے سوا 22 لاکھ لوگ متاثر ہوئے ہیں، 34 ہزار سے زیادہ مکانات کو نقصان پہنچا ہے جبکہ 17 لاکھ ایکڑ پر کھڑی فصلیں تباہ ہوئی ہیں۔

ریڈیو پاکستان کے مطابق پاکستان فوج کے اہلکاروں نے مظفر گڑھ کے قریب علی پور کے سیلاب سے متاثرہ علاقوں سے 2700 لوگوں کو محفوظ مقامات پر منتقل کیا ہے۔ سیلاب میں پھنسے ہوئے لوگوں کو نکالنے کے لیے 30 کشتیاں اور دو ہیلی کاپٹر استعمال کیے گئے۔ اس کے علاوہ وہاں ایک میڈیکل کیمپ قائم کیا گیا ہے جبکہ سات سو کلوگرام راشن بھی تقسیم کیا گیا ہے۔

بھارت کے زیرِانتظام کشمیر کے متاثرین ناراض

،تصویر کا ذریعہReuters

،تصویر کا کیپشن

امریکہ نے کشمیر کے متاثرین کی امداد کے لیے دو لاکھ 50 ہزار امریکی ڈالر امداد کا وعدہ کیا ہے

اُدھر بھارت کے زیرِانتظام کشمیر میں شدید بارشوں اور سیلاب کے بعد حکومت کی جانب سے متاثرین کی مدد میں تاخیر کے باعث لوگوں میں اشتعال پایا جاتا ہے، مگر وزیر اعلیٰ عمر عبداللہ نے اپنی حکومت اور انتظامیہ کی کارکردگی کا دفاع کیا ہے۔ حکام کے مطابق سری نگر سمیت خطے میں سیلاب کے باعث 200 افراد ہلاک ہوئے جبکہ ریلابی ریلے میں بہہ جانے والے متعدد افراد تاحال لاپتہ ہیں۔

عمر عبداللہ نے بی بی سی کے اینڈریو نارتھ سے ریاستی دارالحکومت سری نگر میں بات چیت کرتے ہوئے یہ تسلیم کیا کہ آغاز میں انھیں سیلاب سے نمٹنے کی کوششوں میں دقتیں پیش آئیں لیکن اب وہ جتنا کچھ کر سکتے ہیں کر رہے ہیں۔

ہر چند کہ کشمیر میں ہزاروں افراد کو سیلاب سے بچا کر محفوظ مقامات پر پہنچایا گیا ہے تاہم عام کشمیریوں کی شکایت ہے کہ فوجی ہیلی کاپٹروں نے صرف غیر ملکی سیاح اور اعلیٰ اہلکاروں کو بچایا گیا ہے۔

وزیر اعلیٰ عمر عبداللہ نے اس کے جواب میں کہا کہ موصلات کا نظام درہم برہم ہوجانے سے آغاز میں ان کی انتظامیہ مفلوج ہو کر رہ گئی تھی۔ انھوں نے امید ظاہر کی ہے کہ انھیں مزید امداد کی امید ہے لیکن اب وہ دور دراز کے علاقے میں پھنسے لوگوں تک پہنچنے کی کوشش کر رہے ہیں۔

اس سے قبل بھارتی خبررساں ادارے پی ٹی آئی کے مطابق امریکہ نے کشمیر کے متاثرین کی امداد کے لیے ڈھائی لاکھ امریکی ڈالر امداد کا وعدہ کیا ہے اور متاثرین کے لیے دل کی گہرایوں سے اپنی ہمدردی کا اظہار کیا ہے۔

اے ایف پی کی رپورٹ کے مطابق سری نگر میں پانی کی سطح میں کمی آئی ہے اور لوگ اپنے گھروں کو لوٹ رہے ہیں لیکن انھیں ٹوٹے گھر، گندگی کے ڈھیر اور جانوروں کی لاشیں مل رہی ہیں اور لاشوں کی بدبو ناقابل برداشت ہے۔ ڈاکٹروں نے گندے پانی کے سبب وسیع پیمانے پر بیماریاں پھیلنے کا خدشہ ظاہر کیا ہے۔

No comment

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *