برآمدکنندگان کو اپنی برآمدی رقم مقررہ تاریخ کے اندر واپس کرنے پر مجبور کیا جارہا ہے، ٹی ایم اے۔ فوٹو: فائل

برآمدکنندگان کو اپنی برآمدی رقم مقررہ تاریخ کے اندر واپس کرنے پر مجبور کیا جارہا ہے، ٹی ایم اے۔ فوٹو: فائل

کراچی: ٹاول مینوفیکچررز اینڈ ایکسپورٹرز ایسوسی ایشن نے درآمدی پابندیوں میں نرمی کو تشویشناک قرار دے دیا۔

ٹاول مینوفیکچررز اینڈ ایکسپورٹرز ایسوسی ایشن نے اسٹیٹ بینک کی درآمدی پابندیوں میں نرمی کو تشویشناک قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ ذرمبادلہ کے ذخائر میں بہتری کی غرض سے دسمبر 2022 میں یہ پابندی عائد کی گئی تھی لیکن اسٹیٹ بینک نے زرمبادلہ کے ذخائر میں کمی کے باوجود حیران کن انداز میں درآمدی پابندیاں ختم کردی ہیں۔

یہ بھی پڑھیں: ٹیکسٹائل برآمدات میں مسلسل آٹھویں ماہ بھی کمی کا رجحان

ٹی ایم اے کا کہنا ہے کہ وہ اچانک ختم ہونے والی درآمدی پابندیوں سے متعلق حکومتی حکمت عملی کو سمجھنے سے قاصر ہے کیونکہ اس فیصلے سے ملکی ذرمبادلہ کے ذخائر پر منفی اثرات مرتب ہوں گے اور دوسری جانب مرکزی بینک کی طرف سے برآمدکنندگان کو مجبور کیا جارہا ہے کہ وہ اپنی برآمدی رقم مقررہ تاریخ کے اندر واپس کریں بصورت دیگر انہیں ایس بی پی ایف ای سرکلر نمبر 02 کے تحت جرمانے کا سامنا کرنا پڑے گا۔

ٹی ایم اے نے جاری معاشی حالات کے تناظر میں حکومت کو تجویز دی ہے کہ وہ ملکی برآمد کنندگان کی ترقی کے لیے صرف پانچ اہم برآمدی شعبوں کو مطلوبہ خام مال درآمد کرنے کی اجازت دے۔

No comment

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *