اسلام آباد: یونان کے ساحل پر کشتی ڈوب گئی جس کے نتیجے میں پچاس سے زائد پاکستانی لاپتہ جبکہ 27 مرنے والوں سمیت 12 زندہ بچ جانے والوں کی شناخت ہوگئی، اسپیکر قومی اسمبلی نے وزارت داخلہ سے واقعے کی رپورٹ طلب کرلی جبکہ ایف آئی اے نے ایکشن لیتے ہوئے مرکزی ملزم سمیت انسانی اسمگلنگ میں 11 ایجنٹس کو گرفتار کرلیا۔

ترجمان دفترخارجہ کا کہنا ہے کہ فی الوقت ہم جاں بحق ہونے والوں میں پاکستانی شہریوں کی تعداد اور شناخت کی تصدیق کرنے سے قاصر ہیں۔ یونان میں پاکستانی مشن سفیر عامر آفتاب کی سربراہی میں مقامی حکام سے رابطے میں ہیں۔

ترجمان نے کہا کہ جاں بحق ہونے والے پاکستانی شہریوں کی شناخت، لواحقین کو امداد فراہم کرنے کے لیے مقامی حکام سے رابطہ ہے. ہمارا مشن 78 برآمد شدہ لاشوں کی شناخت کے عمل میں یونانی حکام کے ساتھ بھی رابطے میں ہے. شناخت کا یہ عمل قریبی خاندان کے افراد (صرف والدین اور بچوں) کے ساتھ ڈی این اے میچنگ کے ذریعے انجام پائے گا.

یہ بھی پڑھیں: یونان میں تارکین وطن کی کشتی ڈوب گئی؛79 افراد ہلاک

انہوں نے کہا کہ بدقسمت کشتی پر سوار ممکنہ مسافروں کے اہل خانہ سے درخواست کی جاتی ہے کہ وہ تصدیق کے مقاصد کے لیے یونان میں ہمارے مشن سے 24/7 ہیلپ لائن نمبرز پر رابطہ کریں. اہل خانہ تصدیق شدہ لیبارٹریوں سے ڈی این اے رپورٹس اور مسافر کی شناختی دستاویزات [email protected] پر شیئر کریں۔

حادثے میں مرنے والوں کے نام

ڈپٹی کمشنر کوٹلی آزاد کشمیر کی جانب سے حادثے میں جاں بحق ہونے والے بدقسمت نوجوانوں کے نام جاری کردیے گئے ہیں، جس کے مطابق مرنے والوں میں محمد سنیال ولد محبوب،عبدالروٴف ولد محمد حسین،محمد شہباز،رضوان الحق،شاہد سرور، محمد رئیس،ارشد،خادم حسین،حمید،محمد نوید،ناصر اقبال،آزاد،نبیل،آکاش،انعام،یاسر حسین عمران، عبدالسلام، ساجد اسلم، عبد الجبار، توقیر، اویس، ساجد یوسف، سمیر، شمریز گلریز، یاسر اور علی رضا بھی شامل ہیں۔

حادثے میں بچ جانے والے پاکستانیوں کے نام

جن 12 پاکستانیوں کو بچالیا گیا ان میں ضلع کوٹلی کے محمد عدنان بشیر ولد محمد بشیر، حسیب الرحمان ولد حبیب الرحمان، محمد حمزہ ولد عبدالغفور، گوجرانوالہ کے عظمت خان ولد محمد صالح، عرفان احمد ولد شفیع (ہسپتال میں داخل)عمران آرائیں ولد مقبول (ہسپتال میں داخل) گجرات کے محمد سنی ولد فاروق احمد اور ذیشان سرور ولد غلام سرور، شیخوپورہ کے زاہد اکبر ولد اکبر علی اور مہتاب علی ولد محمد اشرف ، منڈی بہاؤالدین کے رانا حسنین ولد رانا نصیر احمد، سیالکوٹ کے عثمان صدیق ولد محمد صدیق شامل ہیں۔

آزاد کشمیر کوٹلی میں کشتی ڈوبنے اور ہلاکت کی خبروں کی اطلاع ملنے پر فضا سوگوار ہے اور لواحقین نے حکومت سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ انسانی اسمگلروں کے لیے سخت اقدامات کرے۔

ایف آئی اے کی تحقیقیاتی کمیٹی قائم

اُدھر ایف آئی اے نے یونان کشتی حادثہ کی تحقیقات کیلیے کمیٹی تشکیل دے کر فسران کو نامزد کر دیا، نامزد کئے گئے افسران میں انسپیکٹر ہادی پرستان، انسپیکٹر عبداللہ، انسپیکٹر وقار اعوان اور سب انسپیکٹر ارتضیٰ انصر شامل ہیں، افسران ایف آئی اے کے مختلف اینٹی ہیومن ٹریفکنگ سرکلز میں تعینات ہیں۔

افسران کے موبائل نمبرز اور ای میل ایڈرس بھی شئیر کر دئیے گئے ۔ ترجمان ایف آئی اے نے کہا کہ عوام سے گزارش کی جاتی ہے کہ کشتی حادثہ میں ملوث عناصر کے حوالے سے کسی قسم کی معلومات شئیر کرنے کے لئے افسران سے رابطہ کریں، معلومات شئیر کرنے والے کا نام صیغہ راز میں رکھا جائے گا۔

یونان کشتی حادثہ، وزارت داخلہ سے رپورٹ طلب

اسپیکر قومی اسمبلی راجہ پرویز اشرف نے یونان میں ڈوبنے والی کشتی کے سوار پاکستانیوں کے واقعے کا نوٹس لیتے ہوئے ذمے داران کے خلاف کاروائی کے احکامات جاری کردیے۔

اسپیکر قومی اسمبلی راجہ پرویز اشرف کی زیر صدارت قومی اسمبلی کا اجلاس ہوا۔ مولانا عبدا الکبر چترالی نے نقطہ اعتراض پر کہا لیبیا سے یونان جاتے ہوئے 310 پاکستانی کشتی سمیت سمندر میں ڈوب گئی ہے، واقع کی تحقیقات کروائی جائیں۔

اسپیکر قومی اسمبلی نے واقع کا نوٹس لیتے ہوئے ہدایت کی کہ تحقیقات کرکے ذمے داران کو قرار واقعی سزا دی جائے۔

دوسری جانب کمشنر میرپور چوہدری شوکت علی نے کہا ہے کہ یونان کشتی حادثہ میں کوٹلی کے مختلف علاقوں کے پچاس کے قریب نوجوان شامل ہیں، ڈیڈ باڈیز کی شناخت کا عمل جاری ہے وزارت خارجہ اور حکومت پاکستان سے رابطے میں ہیں۔

انسانی اسمگلنگ میں ملوث نیٹ ورک کے خلاف گرینڈ آپریشن

آئی جی ڈاکٹر خالد چوہان نے بتایا کہ کوٹلی آزاد کشمیر میں انسانی سمگلنگ میں ملوث نیٹ ورک کے خلاف گرینڈ آپریشن کا آغاز کیا گیا ہے، غیر قانونی طریقہ سے نوجوانوں کو یورپ بھیجنے والے9 ایجنٹ گرفتار کرلئے گئے،  یونان کشتی حادثہ میں کھوئی رٹہ کے 24 سے 26 لوگ شامل تھے، گرفتار 9 ایجنٹوں کے خلاف تھانہ کھوئی رٹہ میں مقدمہ درج کرلیا گیا۔

یہ پڑھیں : یونان – لیبیا کشتی حادثے میں ملوث انسانی اسمگلر گرفتار

انہوں نے کہا کہ متاثرہ فیملیز سے رابطے کر رہے ہیں ابھی فیملیز کو بھی اپنے بچوں کے بارے میں کوئی اطلاع نہیں، حادثے کا شکار نوجوان تین چار ماہ پہلے اپنے گھروں سے بیرون ملک گئے، نوجوان پاکستان سے لیگل ویزہ پر لیبیا تک جاتے ہیں اور وہاں سے غیرقانونی طریقہ اختیار کر کے یورپ جاتے ہیں۔

حادثے میں لاپتہ ہونے والے نوجوانوں کی عمریں 18سے 35 سال کے درمیان ہیں جن میں ایک ہی خاندان کے بارہ افراد بھی شامل ہیں۔

ادھر حادثے میں جاں بحق ہونے والوں میں گوجرانوالہ کے علاقہ کشمیر کالونی کے تین دوست بھی شامل ہیں۔ امجد ،جلال اور حبیب آٹھ ماہ قبل لیبیا گئے تھے کشتی حادثے کی خبر سے تینوں گھرانے غم سے نڈھال ہیں۔

امجد بیگ کے بھائی نے بتایا کہ تینوں دوست 9جون کو اٹلی کے لیے نکلے تھے، امجد نے آخری کال پر والدہ سے دعا کی درخواست کی تھی۔

علاوہ ازیں ڈوبنے والی کشتی کی ویڈیو بھی سامنے آگئی۔ ویڈیوایک سوارنے بناکردوست کوبھیجی جس نے سوشل میڈیاپہ لگائی۔ کشتی میں کئی سو افرادسوارتھے۔

آزاد کشمیر کابینہ نے یونان کشتی حادثہ پر یوم سوگ منانے کا فیصلہ کیا ہے جس کے تحت آزاد کشمیر بھر میں 18 جون کو پرچم سر نگوں رہے گا۔  وزیر آزاکشمیر نے چیف سیکریٹری کو وزارتِ خارجہ سے رابطہ کرنے اور جاں بحق افراد کی لاشیں واپس لانے کیلیے اقدامات کرنے کی ہدایت کی۔

واضح رہے کہ اقوام متحدہ کا کہنا ہے کہ اس حادثے میں 500 افراد لاپتہ ہیں جبکہ یونان کی حکومت نے کشتی حادثے پر تین روزہ ملک گیر سوگ کا اعلان کیا ہے۔

No comment

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *